سبھی نظروں کےحصارمیں جوخوبروھے
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarسبھی نظروں کےحصارمیں جوخوبروھے
بیٹھامحفل میں وہ میرےہی روبروھے
حصول اسی کامیرا حاصل جستجوھے
لی جان کےبدلےجس کی آرزو ھے
کوئی پُرکیف سامنظرعجب سرورھے
تنہاچاندچاندنی اورچمکتےہوئےجگنوھے
چھوڑدیاھےہم نےاب عشق پہ لکھنا
اس مضمون کےنکلتےکئی عنواں کئی پہلوہیں
پاؤں تلےیہ پتےکی تڑپتی ہوئی آہیں
“مارڈالاکیوں یہ پت جڑمیراعدوھے“
ادب ولحاظ کرتےہوئےنظریں جھکالئے
بات کرتےورنہ ہم بھی دوبدوھے
تنہاچھوڑدیایارنےرسوا کر کے
پھیلی یہی افواہ تمام شہرمیں کُوبہ کُوھے
درقفس سےذراجھانک کےدیکھنےتودیجیئے
آئی بہارھےشائدرقص کرتی ہوئی خوشبوھے
تن میں اپنےجان میری قیدکئےہوئے
کیاجادوگرنےکوئی ایسامجھ پہ جادوھے
تھوڑڈالابھی محبت نےتوجھکنےنہیں دیا
بس اسی بات پہ سرعائش کاسرخروھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






