ستم
Poet: Bakhtiar Nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreہم نے جو زہر پی لیا ہے
اپنے لئے وہی تریاق ہوا ہے
گردش دوراں سے مسعار اک وقفہ
کسی یاد میں خوب گزرا ہے
جب خود کو سنبھالا نہ گیا
سمجھئے قریب سے وہ کہیں نکلا ہے
پٹ کھڑکی کے کیوں بند رہیں
کھولئے انہیں باہر تازہ ہوا ہے
سزاتو کسی طور ملے گی
چاہے جرم کسی اور کا ہے
رگ جاں سے آہ ‘ ترانے منہ پر
سنتے ہیں وہ ہنستا کھیلتا ہے
جو ستم رہ گیا ہے وہ کیجئے
ناصر تو بے نام پتھر کا بنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






