ستم ہے کرنا، جفا ہے کرنا، نگاہِ اُلفت نبھا رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاستم ہے کرنا، جفا ہے کرنا، نگاہِ اُلفت نبھا رہے ہیں
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی، ہمارے حق یہ ادا رہے ہیں
کہاں کا آنا کہاں کا جانا، وہ جانتے ہیں تھیں یہ رسمیں
بھلا کیا اعتبار تونے، ہزار منہ کی سنا رہے ہیں
مری تو ہے بات زہر اُن کو، وہ اُن کی مطلب ہی کی نہ کیوں ہو
کہ اُن سے جو التجا سے کہنا ، غضب ہے اُن کو خفا رہے ہیں
رقیب کا ذکر وصل کی شب، پھر اُس پہ تاکید ہے کہ سنئے
مجال کس کی ہے اے ستمگر سنائے جو تجھ کو جا رہے ہیں
نگاہیں دشنام دے رہی ہیں، ادائیں پیغام دے رہی ہیں
بہک بہک کر مزے مزے کی سنائیں گے یہ سنا رہے ہیں
بہل ہی جائے گا دل ہمارا کہ ہجر کی شب کو رحم کھا کر
تمہاری تصویر بول اُٹھے گی کرے کیا یہ لبھا رہے ہیں
مزا تو اُس وقت جھوٹ سچ کا کُھلے کہ ہے کون راستے پر
خدا کے آگے مری تمہاری اگر ہوں لب کی دعا رہے ہیں
گلا نہیں تجھ سے زندگی کے وہ زاویے ہی بدل چکے ہیں
مری وفا وہ ترے تغافل کی نوحہ خواں ہی پڑھا رہے ہیں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






