سر میں درد ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaجب تم سے بات نہیں ہوتی
جب مجھے تم نظر نہیں آتی
تب بے چینیاں نازل ہوتی ہیں
تب اُداسیاں قریب آتی ہیں
جب تم دور ہوتے ہو تو
کچھ بھی اچھا نہیں لگتا مجھے
دلچسپیاں زمانے میں نہیں رہیتں
میں کر کے دروازہ بند کمرے کا
اِس قدر یاد کرتا ہوں تجھے
جس قدر پیار کرتا ہوں تجھے
کبھی کبھار تو ایسا یوتا ہے
میرے ساتھ ماحول رونے لگتا ہے
سچ بتاؤں جان جی! حقیقت ہے
سر میں درد ہونے لگتا ہے
سر میں درد ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
سر میں درد ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






