سر میں محبت کا جنوں رکھتے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamآنکھوں پہ چشمہ ہاتھ میں فون رکھتے ہیں
اپنے سر میں محبت کا جنوں رکھتے ہیں
ہماری جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں ہے
پھر بھی دعویٰ ہے جیب میں قانون رکھتےہیں
اپنے اسکول کہ نئے ودیارتیوں کے لیے
ہم عشق نام کاایک مضموں رکھتے ہیں
جانے کب کوئی سوہنی زندگی میں آئے
ہر روز مسالہ مچھلی بھون رکھتے ہیں
موج مستی بنازندگی پھیکی لگتی ہے
لوٹے(مگے)میری زندگی پرسکون رکھتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






