سراغ اپنا ہی کھوچتا ہوں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi میں خود سے اکثر یہ پوچھتا ہوں
پہیلیا ں خود سے بوجھتا ہوں
سراغ اپنا ہی کھوجتا ہوں
تنہائیوں میں یہ سوچتا ہوں
قصور دل کا ہے یا نظر کا
قصور شب کا ہے یا سحر کا
قصور آندھی کا یا شجر کا
قصور محنت کا یا ثمر کا
قصور میرے مزاج کا ہے
یا بے مروت سماج کا ہے
گدا کے کچے مکان کا ہے
یا شیش محلوں کی شان کا ہے
قصور اسکے شباب کا ہے
یا عشق اس کے عذاب کا ہے
کہ جس میں عرصے سے جل رہا ہوں
میں دھوپ میں تنہاء چل رہا ہوں
سزا ملی تو کسے ملے گی
اسے ملی یا مجھے ملے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







