سرحد کے اس پار

Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New Delhi

جانے کیا کیا چھوٹ گیا ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار

گاؤں کی گلیاں بستی آنگن چبارو ​​سے دور ہوا
تم بھی تھوڑے روٹھے ہم سے اور میں بھی مجبور ہوا

جسم یہاں ہے روح ہے میری سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار

دور تھا ایسا ہم تم دونوں ساتھ مے کھیلا کرتے تھے
ہر بحران ہر دشواری کو ساتھ مے جھیلا کرتے تھے

دو ٹوكڑو کا ایک حصہ ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار

جانے کتنی سدييا ہم تم سے محبت وفا کے رہبر تھے
گر ہم تھے خاموش کنارہ تو تم ہی ایک سمندر تھے

محض دلوں کا درد لئے ہم سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار

جانے کیا کیا چھوٹ گیا ہے سرحد کے اس پار
کوئی ہم سے روٹھ گیا ہے سرحد کے اس پار

Rate it:
Views: 666
25 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL