سرد جذبوں کو کیا محبت کا پیغام لکھوں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadسرد جذبوں کو کیا محبت کا پیغام لکھوں
ناآشنا ہیں جو الفت سے کیا انکے نام لکھوں
زکر کروں میں کیا ان سے چھوٹے چھوٹے جذبوں کا
عرصے سے سوچ رہا ہوں کیسے انہیں سلام لکھوں
کیسے کہوں گا ان سے میں تیرے بن نہیں چین مجھے
کیسے کروں گا سامنا کیسے خواہش تمام لکھوں
پوچھیں گے وہ ہاں لازم مجھ سے وجہ دَر پر آنے کی
دیکھ کر اُن کا تُرش لہجہ کیا وجہِ قیام لکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






