سردیوں کی حسین و رنگین شام میں
Poet: Shoaib Iqbal By: Moona, sialkotسردیوں کی حسین و رنگین شام میں
اتنا کیوں دل میرا اداس ہے
پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
کیوں اداسیوں کا راج ہے
سجائی ہے ہونٹوں پہ مسکراہٹ میں نے
پھر آنکھوں میں کیوں آنسوؤں کی برسات ہے
کبھی زندگی سے بیزاری پہلے نہ تھی
اب کیوں اتنا شدت سے احساس ہے
لاکھ چاہا ماضی سے دامن چھڑانا
لیکن چہرہ کیوں پھر وہ مجھے یاد ہے
چھوڑ آیا ہوں دیس تیرا اب تو
جذبہ کیوں پرانا اب بھی جوان ہے
زندگی آخری سانسوں پہ ہے میری ساحل
انتظار کیوں تیرے لوٹ آنے کا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






