سرِِِِِشاخِِِِ گُُُل
Poet: Parveen Shakir By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurوہ سایہ دار شجر
جو مجھ سے دور، بہت دورہے، مگر اُُس کی
لطیف چھاؤں
سجل، نرم چاندنی کی طرح
مرے وجود،مری شخصیت پہ چھائی ہے!
وہ ماں کی بانہوں کی مانند مہرباں شاخیں
جو ہر عذاب میں مجھ کو سمیٹ لیتی ہیں
وہ ایک مشفقِِِ دیرینہ کی دعا کی طرح
شریر جھونکوں سے پتوں کی نرم سرگوشی
کلام کرنے کا لہجا مجھے سکھاتی ہے
وہ دوستوں کی حسیں مسکراہٹوں کی طرح
شفق عذار، دھنک پیرھن شگوفے،جو۔۔
مجھے زمیں سے محبت کا درس دیتے ہیں!
اُُُُداسیوں کی کسی جانگداز ساعت میں
میں اُُُُس شاخ پہ سر رکھ کے جب بھی رویا ہوں
تو میری پلکوں نے محسوس کر لیا فوراّ
بہت ہی نرم سی اک پنکھڑی کا شیریں لمس!
(نمی تھی آنکھ میں لیکن میں مسکرایا ہوں)
کڑی ہے دھوپ تو
پھر برگ برگ ہے شبنم
پتیاں ہوں لہجے
تو پھر پھول پھول ہے ریشم
ہرے ہوں زخم
تو سب کونپلوں کا رس مرہم!
وہ ایک خوشبو
جو میرے وجود کے اندر
صداقتوں کی طرح زینہ زینہ اُُُتری ہے
کِِِِرن کِِِِرن میری سوچوں میں جگمگاتی ہے
(مجھے قبول، کہ وجداں نہیں یہ چاند مرا
یہ روشنی مجھے ادراک دے رہی ہے مگر)
وہ ایک جھونکا
جو اُُُس شہرِِِ گل سے آیا تھا
اب اُُُس کے ساتھ بہت دور جا چکا ہوںمیں۔۔۔۔
میں ایک ننھا سا بچہ ہوں اور خاموشی سے
بس اُُُس کی اُُُنگلیاں تھامے، اور آنکھیں بند کئے
جہاں جہاں لئے جاتا ہے، جارہا ہوں میں!
وہ سایہ دار شجر
جو دن میں میرے لئے ماں کا آنچل ہے
وہ رات میں ، میرے آنگن پہ ٹھہرنے والا
شفیق،نرم زباں، مہربان دل ہے
میرے دریچوں میں جب چاندنی نہیں آتی
جو بے چراغ کوئی شب اُُُترنی لگتی ہے
تو میری آنکھیں کرن کے شجر کو سوچتی ہیں
دبیز پردے، نگاہوں سے ہٹنے لگتے ہیں
ہزار چاند، سرِشاخِِِِ گُُُل اُُُبھرتے ہیں!
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






