سزا
Poet: HAMZA_BUTT By: Hamza, HAZRO,GHOURGHUSHTI,دِل کی ہر گلی ہر راستے پہ نام تیرا لکھ کر
نکلے جو گھر سے لے کر تیری یادوں کا سہارا
واسطہ رہا ٹھوکروں کی ناؤ سے بارہا
پھر سِلسلہ شُروع ہوا دِل کی سزاؤں کا
ہم تو کہتے تھے تیرے شہر کو بے مثال مگر
کھُلا ہم پہ نشیمن ہے یہ بے وفاؤں کا
نہ جی سکا نہ مر سکا، کیا اُس کا حال بتائیں
وہ جو ہو گیا شکار چارہ گر کی اداؤں کا
چراغِ محبت کیا جلایا دل کے آشیاں میں
میرے گھر کو ہی ہو گیا رُخ ہواؤں کا
پکارا ہے اُس کو کئی بار دل و جاں سے مگر
ہوتا نہیں اُس پہ کچھ اثر اِس دل کی صداؤں کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






