سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں

Poet: عامر سہیل By: مصدق رفیق, Karachi

سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں
الجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میں

یہ ترے بالوں کا تالاب کی تہ کو چھونا
حالت خواب میں یا عالم عریانی میں

بے حجابانہ کسی لہر کا تجھ تک آنہ
پھر ترے جسم کا بہہ جانا گھنے پانی میں

کہکشاؤں کا غزالوں کا غزل زادوں کا
دور و نزدیک سے آنا تری مہمانی میں

رات کا جھکنا تری پشت پہ دل داری کو
باغ کے پیڑوں کا آ جانا رجز خوانی میں

بام و در دیکھتے جاتے ہیں کھڑے سکتے میں
اک ستارے کا توارد تری پیشانی میں

مرمریں انگلیاں اک دل پہ لکھیں حال حنا
پھول آواز کا کھل جائے پشیمانی میں

چاند مخروطی ابھاروں پہ شعاعیں پھینکے
اس قدر محو تجھے دیکھ کے حیرانی میں

سایۂ ثابت و سیار کے ہالے میں چلوں
اور جہانوں میں رہوں تیری نگہبانی میں
 

Rate it:
Views: 157
08 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL