ســجے ہــــوۓ شــــہر کے مکیــــنو
Poet: نامعلوم By: فرھاد خانزادہ, دبئیمــجھے نہ دیکھ !
مـیں بے زمـاں بے مـکاں اداسـی کے کـھدرے ہـاتھ سے،،
تراشیــــدہ "ســنگ زادہ"..
مــیرے بــدن پـر قبـاۓ سـادہ..
میـں خـواہشـوں کے ہـجوم مـیں بـھی،،
خـود اپـنے خــوابوں کا آدمی ہــوں..
مـیں کــتنی صـدیوں کی بے بـسی ہـوں.!
سـجے ہــوۓ شــہر کے مکیــنو !!
مــجھے نــہ دیــکھو !!
مــیں اجــــنبی ہــــوں،،
مــیں اجــــنبی ہــــوں.!
خــود اپــنے بیــتے ہــوۓ مـہ و سـال کـی خراشـوں سے..
میــرے قــبیلے پـہ ہــــجرتــــوں کے ســفر مـیں،،
شبــــخوں.........ہــوا نے مــارا
میــرے پــس وپیــش دھــوپ ہی دھــوپ نــاچتی ہے..
مــیرے یمیــں و یـسار لاشــوں کے سرخ ٹیــلے...
میــں کــس کــا مــاتم کـروں عزیــــزو ؟؟؟
میــں کـس کـو آواز دوں .........کـہ مـیں
تـمام لاشــوں سے اجــنبی ہــوں.!!!
ســجے ہــوۓ شــہر کے مکیــنو !!!
مجــھے نــہ دیــکھو !!!
کـہ مـیرا سـایہ،،
تمہـاری رنـگوں نہـائی صبـحیں
چـبا نـہ ڈالے..
کـہ میـرا سـایہ ،،
کـسی کــھنڈر مـیں پـرانی محـراب کـا دیـا ہے..
نـہ مـیرے سیـنے مــیں روشنـی ہے..
نـہ مـیرے لـب پـر کـوئی دعـا ہے !!!
ســجے ہــوۓ شــــہر کے مکیــنو !!!
مجــھے نــہ دیــکھو !!!
میـری کـٹی انـگلیوں کـی زد مـیں،،
قـلم کـی جـنبش ! تـراشتـی ہے..
تـمام نـوحے اداسیـوں کے،،
تمـام لــہجے!
اجــاڑ بســتیوں کے باسیــوں کے..
مجـھے نـہ دیـکھہ ! میـری آنـکھیں،،
اجـاڑ صدیـوں کے زائـچے ہـیں..
کہ میـرے ہـونٹــوں پـہ،،
مــــوت کـی پھــانکتی ہــواؤں کے ذائــقے ہــیں..
ســجے ہــوۓ شــــہر کے مکیــنو !!!
مــجھے نہ دیــکھو !!!
میــں اپــنی میــــت کـا آپ وارث.!!
مـیں اپـنے بے آسـرا لــہو کــا،،
خــود آپ "برزخ"
میــرے نــقش مـیں اتـرتی صـبحوں،،
بـکھرتی شامـــوں کـی خـودکشی ہے..
حـذر کـرو مـیری قـربتوں سے
کہ مـیرا مــاحول "تــــنہائی" ہے..
ســجے ہــوۓ شــــہر کے مــــکینو !!!
مــجھے نــہ دیــکھو !!!
مجــھے نــہ چــھیڑو !!!
نہ مــیرے دکــھ کـا سـفر کـرو تــم !!!
ھـوا کـو اتـنی خـبر کـرو تـم،،،
ھـوا جــو مجـھ سے الــجھ رہے ہے..
ھـوا جــو مــٹی میـں دفـن ہـوتی ہـوئی اداسـی سے اجــنبی ہے..
ھــوا جــو رســتے مٹــا رہے ہے..
سـجے ہــوۓ شــہر کے مکیــنو !!
مــجھے نــہ دیــکھو !!
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






