سلوک اس نے محبت میں عجب مجھ سے روا رکھا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKسلوک اس نے محبت میں عجب مجھ سے روا رکھا
ہمیشہ میرے اپنے درمیاں اِک فاصلہ رکھا
تمہارے پاس آتے ہی جلا د یں کشتیاں ساری
کہ ہم نے لوٹ جانے کا نہ کویٔ راستہ رکھا
تمہارے پیار میں ہم اور کتنی در گذر کرتے ؟
تمہاری ہر جفا کا نام ہم نے اِک ادا رکھا
تمہارے بن رہے سونے ہمارے بام و در کتنے
نہ آۓ تم مگر ہم نے تو دروازہ کھلا رکھا
توقع اور سے کیوں ہو ہمیں حاجت روایٔ کی ؟
خدا کے سامنے پھیلا کے جب دستِ دعا رکھا
نہ تھا کچھ ربط ہی شاید ترے دِل کا ، مرے دِل سے
نہ لوٹے تم نہ تم نے ہم سے کویٔ رابطہ رکھا
ہوا کا دیکھنا مقصود مجھ کو ظرف ہے عذراؔ
ہوا کے دوش پر میں نے جلا کے اِک دیا رکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






