سلگتی شام کی یہ آتشِ
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesخیال و خواب سے مہکی ہوئی یہ شام تیرے نام
نظر کے نور سے لبریز کتنے جام تیرے نام
یہ یادوں کی ہوا بھڑکا گئی بجھتے ہوئے شعلے
سلگتی شام کی یہ آتشِ بے نام تیرے نام
فسانہ میں ہوں تیرا یاد ہے اتنا مجھے لیکن
میرا آغاز بھی تو ہے میرا انجام تیرے نام
میں منزل پہ نہ پہنچوں گر مجھے اس کا نہیں ہے غم
جنوںِ شوق میں ہر ڈگمگاتا گام تیرے نام
سکوتِ شب کی صورت گونجتی ہوں تیری محفل میں
ہواؤں پر سدا لکھتی رہی پیغام تیرے نام
اُمیدِ وصل کے گو مرحلے تاریک ہی گزرے
جلائی شمع ہم نے ہجر میں ہر شام تیرے نام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






