سن لو میری صدا رک جاؤ
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIسن لو میری صدا رک جاؤ
ہوں گے ہم نہ جدا رک جاؤ
آرزو دل کی زبان پہ آئی
بن کے لب پہ دعا رک جاؤ
اب کشتیوں سے کیا گلہ کرنا
پکارتی رہی ہوا رک جاؤ
اشک آتے نہیں ہیں مدت سے
جوش خون جگر نہ رہا رک جاؤ
ہم تو پہلے بہت بیگانے ہیں
گل و خوشبو صبا رک جاؤ
ہم تڑپتے ہیں یاد آجائے
الفت حسن و جفا رک جاؤ
یہ گلستاں نہ کہیں اجڑ جائے
حاکم و صیاد صبا رک جاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






