سنائی دے رہی ہیں جانٍ جاں سرگوشیاں دل کی۔ ۔ ۔ گیت
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanسنائی دے رہی ہیں جانٍ جاں سرگوشیاں دل کی
چھپا پاؤ گی نہ ہم سے کبھی مدہوشیاں دل کی
رہے خاموش تم اور ہم نے بھی یہ لب نہیں کھولے
وفاؤں کو چھپاتے ہی رہے منہ سے نہ کچھ بولے
زباں پانے لگیں پر آج سب خاموشیاں دل کی
چھپا پاؤ گی نہ ہم سے کبھی مدہوشیاں دل کی
تمھارے بن زمانے میں ہمیں کچھ بھی نہ بھاتا ہے
تمھارے حسن کی مستی میں یہ دل ڈوب جاتا ہے
نئی اک زندگی دینے لگیں بے ہوشیاں دل کی
چھپا پاؤ گی نہ ہم سے کبھی مدہوشیاں دل کی
تمھارے پیار میں کھو کر عجب سی بے خودی پائی
غموں کو بھول کر سچی محبت کی خوشی پائی
نجانے رنگ کیا لائیں گی اب مے نوشیاں دل کی
چھپا پاؤ گی نہ ہم سے کبھی مدہوشیاں دل کی
سنائی دے رہی ہیں جانٍ جاں سرگوشیاں دل کی
چھپا پاؤ گی نہ ہم سے کبھی مدہوشیاں دل کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






