سنبھل کے بات کرو
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہخلوص و مہر کے سانچے میں ڈھل کے بات کرو
قیودِ عہد سے باہر نکل کے بات کرو
کہا یہ موسیٰؔ سے حق نے کلام کرتے ہوئے
تمہاری ماں نہیں زندہ، سنبھل کے بات کرو
جو توڑنے کا نہیں، پھر تو جوڑ کے رکھ لو
نہ آئے گا وہ یہاں، تم ہی چل کے بات کرو
شکستہ حال تمہارا نہ کر سکے گا اثر
خزاں کی زردیاں چہرے پہ مل کے بات کرو
خفا کیا تھا اسے اب مناتے پھرتے ہو
کہا تھا کس نے تمہیں یوں مچل کے بات کرو
خریدنے ہیں مجھے پھل تمہارے ٹھیلے سے
تو دام کتنے ہوئے سارے پھل کے، بات کرو
منافرت میں حدیں تم نے پار کر لی ہیں
سو میری آنکھوں سے کچھ دور ٹل کے بات کرو
خفا نہ ہونا ابھی تو مریض سویا ہے
کرو نہ شور، ذرا دھیمے، ہلکے بات کرو
جسے خدا نے نوازا، اسے زوال کہاں؟
ہزار کینہ رکھو، کُڑھ کے، جل کے بات کرو
رشیدؔ شعر کی وقعت سے آشنا ہے کون
ملے نہ داد تو تم بھی اچھل کے بات کرو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






