سنبھل کے بات کرو

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

خلوص و مہر کے سانچے میں ڈھل کے بات کرو
قیودِ عہد سے باہر نکل کے بات کرو

کہا یہ موسیٰؔ سے حق نے کلام کرتے ہوئے
تمہاری ماں نہیں زندہ، سنبھل کے بات کرو

جو توڑنے کا نہیں، پھر تو جوڑ کے رکھ لو
نہ آئے گا وہ یہاں، تم ہی چل کے بات کرو

شکستہ حال تمہارا نہ کر سکے گا اثر
خزاں کی زردیاں چہرے پہ مل کے بات کرو

خفا کیا تھا اسے اب مناتے پھرتے ہو
کہا تھا کس نے تمہیں یوں مچل کے بات کرو

خریدنے ہیں مجھے پھل تمہارے ٹھیلے سے
تو دام کتنے ہوئے سارے پھل کے، بات کرو

منافرت میں حدیں تم نے پار کر لی ہیں
سو میری آنکھوں سے کچھ دور ٹل کے بات کرو

خفا نہ ہونا ابھی تو مریض سویا ہے
کرو نہ شور، ذرا دھیمے، ہلکے بات کرو

جسے خدا نے نوازا، اسے زوال کہاں؟
ہزار کینہ رکھو، کُڑھ کے، جل کے بات کرو

رشیدؔ شعر کی وقعت سے آشنا ہے کون
ملے نہ داد تو تم بھی اچھل کے بات کرو
 

Rate it:
Views: 262
28 Dec, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL