سنو۔۔ بھلانا آسان نہیں ہوتا
Poet: حیا ایشم By: حیا ایشم, لاہورسنو۔۔
بھلانا آسان نہیں ہوتا
میری ایک بات مانو گے؟
ایک کام کرنا تم۔۔
بہت مصروف ہو جانا
کسی سے کچھ نہیں کہنا
کوئ پوچھے بھی تو تم
بہانہ اچھا بنا دینا
کبھی تنہا نکل جانا
شہر کے ویرانوں میں
کبھی آباد کر لینا
کوئ گوشہ خیالوں میں
کبھی ہنسنا کبھی رونا
کبھی ساری رات نہ سونا
کبھی آہٹ اگر کچھ ہو
اچانک چونک جانا تم
سنو۔۔!
وہ میں نہیں۔۔ لیکن ۔۔
ہاں میری یاد وہ ہو گی
اسے ہی تھام لینا تم
اسے بانہوں میں بھر لینا
سینے میں چھپا لینا
پھر یکدم مسکرانا تم
نہ خود کو آزمانا تم
چھلک جائیں اگر کچھ اشک
ان میں کھلکھلانا تم۔۔!
سنو۔۔
تم پر مان ہے بہت
میری ایک بات مانو گے؟
بھلانا ضروری نہیں ہوتا
محبت قرب ہے بےشک
جو روحوں میں دمکتی ہے
محبت وصل ہے بےشک
جو ہجراں میں چھلکتی ہے
یہ کیف ہے، مہک سی ہے
اگر بتیوں سی سلگتی ہے
محبت کو اگر جانو
تو یہ دعاۓ یار جیسی ہے
جب بے اختیار ہو جانا
اپنے دست وا کرنا
کچھ آنسو بہانا تم
رب کو سب بتانا تم
محبت کو دعا دینا
محبت سانس جیسی ہے
اسے ہر سانس جی لینا
سنو۔۔
بھلانا آسان نہیں ہوتا
انوکھا کام کر جانا
تم ایک راز ہو جانا
محبت حیاتِ جاودانی ہے
اک اداۓ مہربانی ہے
محبت میں نہیں مرتے
سنو تم بوجھ نہیں ڈھونا
تم ہر پل میں امر ہونا
سنو۔۔
محبت شکوہ نہیں ہوتی
محبت قبضہ نہیں ہوتی
یہ متاعِ حیات ہے جاناں
محبت ارزاں نہیں ہوتی
محبت خاموش ہوتی ہے
صبرِ جمیل کی مانند
اک بہتی جھیل کی مانند
کبھی یہ ماہتاب ہوتی ہے
کبھی پیمانہء ظرف ہوتی ہے
کبھی چھلک بھی اگر جاۓ
تو آبِ زمزم سی ہوتی ہے
بہت مقدس سی ہوتی ہے
کبھی یہ حجر بھی لگے
تو اسے چوم لینا تم
اسے کعبہ بنا لینا
اس کا طواف کرنا تم
سنو۔۔
اس پر حرف نہیں دھرنا
اسے الزام مت دینا
یہ ظالم نہیں ہوتی
یہ محرومی نہیں ہوتی
یہ معصوم ہوتی ہے
بہت دلکش سی ہوتی ہے
محبت کو کچھ نہیں کہنا
انوکھا کام کر جانا
محبت کو نبھا لینا
سنو۔۔
ایک سچا سچ کہوں تم سے
خواہ کیسی بھی سختی ہو
محبت آسان ہوتی ہے
محبت رحیم ہوتی ہے
محبت رحمان ہوتی ہے
چاھےجیسی بھی پستی ہو
محبت سبحان ہوتی ہے
دل کیسا شکستہ ہو
محبت ارمان ہوتی ہے
محبت سجدہ سی ہوتی ہے
انا کے باطل جزیروں ہر
محبت واحد کنارہ ہے
ہوس کے ظالم طوفانوں میں
محبت ضبط ہوتی ہے
محبت وقت ہوتی ہے
محبت ربط ہوتی ہے
اسے نہ توڑ دینا تم
نہ خود کو چھوڑ دینا تم
سنو۔۔
تمہیں بےشک اجازت ہے
دل چاھے تو بھلا دینا
مگر ۔۔ کہا ناں ۔۔
تم متاعِ حیات ہو جاناں
تم پر مان ہے بہت
میری ایک بات مانو گے؟
مجھ ہر احسان جانو گے
خود کو سپردِ خدا کرکے
محبت کو نبھا لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ہر پل مسکرا لینا ۔۔
محبت کو ۔۔ نبھا لینا۔۔۔
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






