سنو ! تم ان آنکھوں میں خواب نہیں بننا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaسنو !
تم ان آنکھوں میں خواب نہیں بننا
اگر یہ پورے نیہ ہوں تو
بہت تکالیف دیتے ہیں
یہ انسان کو زندھی کے
ساتھ ساتھ کبھی کبھی
موت بھی دیتے ہیں
سنو !
کوئی کتنا بھی یقین دلائے
مگر تم کسی اجنبی پے
اعتبار نہیں کرنا
لوگ اپنا بن کر دھوکہ دیتے ہیں
میری بات مانو تم
کسی سے پیار نہیں کرنا
زندگی عذاب بن جاتی ہیں
سنو !
تم کسی پے جان نثار نہیں کرنا
لوگ تمہاری وفا کو بھی
تمہارا کوئی انداز سمجھے گیے
سنو !
تم کسی پے اندھا اعتماد نہیں کرنا
جانے والے لوٹ کر کہا آتے ہیں
میری بات مانو تو تم
تم مسافروں کا انتظار نہیں کرنا
سنو !
تم چھوڑ دو محبت کرنی
تم تو بہت نادان ہو
میری جان تم محبت کے
چکر میں اپنی زندگی برباد نہ کرنا
سنو !
زمانے میں تماشا بن جاؤ گی
تم کسی سے کبھی اظہار نہ کرنا
کوئی بھی تمہارے دکھ کا
ساتھی نہیں ہو گا
میری بات مانو تم کسی سے
وفا کرنے کا وعدہ نہیں کرنا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






