سنو ! تم ان آنکھوں میں خواب نہیں بننا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaسنو !
تم ان آنکھوں میں خواب نہیں بننا
اگر یہ پورے نیہ ہوں تو
بہت تکالیف دیتے ہیں
یہ انسان کو زندھی کے
ساتھ ساتھ کبھی کبھی
موت بھی دیتے ہیں
سنو !
کوئی کتنا بھی یقین دلائے
مگر تم کسی اجنبی پے
اعتبار نہیں کرنا
لوگ اپنا بن کر دھوکہ دیتے ہیں
میری بات مانو تم
کسی سے پیار نہیں کرنا
زندگی عذاب بن جاتی ہیں
سنو !
تم کسی پے جان نثار نہیں کرنا
لوگ تمہاری وفا کو بھی
تمہارا کوئی انداز سمجھے گیے
سنو !
تم کسی پے اندھا اعتماد نہیں کرنا
جانے والے لوٹ کر کہا آتے ہیں
میری بات مانو تو تم
تم مسافروں کا انتظار نہیں کرنا
سنو !
تم چھوڑ دو محبت کرنی
تم تو بہت نادان ہو
میری جان تم محبت کے
چکر میں اپنی زندگی برباد نہ کرنا
سنو !
زمانے میں تماشا بن جاؤ گی
تم کسی سے کبھی اظہار نہ کرنا
کوئی بھی تمہارے دکھ کا
ساتھی نہیں ہو گا
میری بات مانو تم کسی سے
وفا کرنے کا وعدہ نہیں کرنا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






