سنو ! مجھے ابھی فیصلہ مت سناؤ
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky), K.S.Aتم لوٹ کر آو گئے
یا پھر نہیں آؤ گئے
ہم ملئے گئے
پا پھر نہیں ملئے گئے
جو وفا کے بیج
میں نے نفرتوں کے
کھیت میں دبائے ہیں
ُان میں پیار کے
پھول لگے گئے
یا پھر نفرتیں ُان
نادان پھولوں کو
کچل دیں گئی
میں نے دعایئں
جو مانگی ہیں
کیا قبولیت کا
پیغام لائی گئی
یا میری دعایئں
رد ہو کر وہی
دم توڑ جایئں گئی
روکو ! مجھے ابھی
اسی کشمکش میں رہنے دو
مجھے رب کو اور
منانے دو
سجدوں میں
سمندر بہانے دو
سنو ! مجھے ابھی فیصلہ مت سناؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






