سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں
Poet: اقبال ساجد By: نعمان علی, Islamabadسنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں
میں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں
لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغ
ان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں
ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیار
سب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں
تیری بربادی پہ اب آنسو بہاؤں کس لیے
میں تو خود اپنی تباہی پر بھی رو سکتا نہیں
جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروبار
دوستو وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں
خواہشوں کی نذر کر دوں کس لیے انمول اشک
کچے دھاگوں میں کوئی موتی پرو سکتا نہیں
میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر
آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں
مجھ کو اتنا بھی نہیں ہے سرخ رو ہونے کا شوق
بے سبب تازہ لہو کی فصل بو سکتا نہیں
یاد کے شعلوں پہ جلتا ہے اگر میرا بدن
اوڑھ کر پھولوں کی چادر تو بھی سو سکتا نہیں
ہاتھ جس سے کچھ نہ آئے اس کی خواہش کیوں کروں
دودھ کی مانند میں پانی بلو سکتا نہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






