سنگدل صنم
Poet: RANA FAISAL MEHMOOD By: rana faisal mehmood, Lahoreوہ اک بھولی سی لڑکی تھی ہمارے گھر وہ آئی تھی
نظر اس پہ پڑی جب تو وہ میرے دل کو بھائی تھی
ہاں کوئی بات تھی شاید کہ جب میں نے اسے دیکھا
بھلے انجان تھے دونوں مگر وہ مسکرائی تھی
بہت ہی خوبصورت تھی کہ بس کیا تم کو بتلاؤں
یوں لگتا تھا خدا نے جیسے فرصت میں بنائی تھی
سمجھوتہِ محبت پھر کر لیا میں نے
کہ جذبات سے میرے اسے بھی آشنائی تھی
قدم سے قدم ِملا کے چلا وہ ہمنوا میرا
چلا جو ہمقدم تو جل گئی ساری خدائی تھی
نظر جانے لگی کس کی جدا وہ ہو گیا مجھ سے
کہا اس نے کہ یوں سمجھو مقدر میں جدائی تھی
سوائے آنسوؤں اور سسکیوں کے نہ تھا کچھ بھی میرا فیصل
کہ اس بےنام عاشق کا مقدر بے وفائی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






