سو نہیں سکتا نیند بھیج دو
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamمیں نے کہاسو نہیں سکتا نیند بھیج دو
جواب آیاتم وصل کی کوئی امید بھیج دو
میں نے کہامیرے لبوں پہ صرف تیرا نام ہے
جواب آیا مبالغہ آرائی میں تو بڑا بدنام ہے
میں نے کہا آپ میرےدل کہ بہت قریب ہیں
بولی مجھے بھول جاہئیےآپ آدمی غریب ہیں
کہا اس فقیر کو اپنوں میں شمار کیجیے
بولی معاف کرو بابا ہمیں نہ گنہگارکیجیے
کہا پیار کو کبھی ٹھکرانہ نہیں چاہیے
جواب آیا ہمہیں تمہارا یارانہ نہیں چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






