سوئے حقیقت - ٢
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiگزشتہ سے پیوستہ
چلو اب ساتھ چلتے ہیں مسافر بن کے راہوں پر
تو مجھ کو معاف اب کردے میری ساری خطائوں پر
محبت تھی خطاء جانا جو میں بھی کرہی بیٹھا ہوں
میں اب ہر زخم سہہ لوں گا تری ساری سزائوں پر
میرے اللہ محبوب سے مجھ کو ملادے تو
میری بیمار طبیعت کو اب جلا دے تو
میں سجدے کرتے کرتے پھوڑ لوں گا آج اپنا سر
میری اس عاجزی کا صورتِ محبوب صلہ دے تو
جنوںِ عاشقی جب سر پہ چڑھ بیٹھا کھلا یہ سچ
یہ میرا عشق ہے ناقص ذرا تو اس گناہ سے بچ
ہٹا پردہ نگاہوں سے حقیقت دیکھ لی میں نے
یہ باطن وہ نہیں باطن جو ظاہر میں لگا ہے سچ
پھر خدا کی چاہ میں حالت صورتِ مجذوب بن بیٹھی
خدا کی بندگی ہر چیز سے مرغوب بن بیٹھی
خلا پائی خیالوں میں مجازی عشق کے میں نے
حقیقت دل میں میرے صورتِ محبوب بن بیٹھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






