سوات۔۔ آتش زدہ جنت
Poet: Anwar Wafi By: Anwar Wafi, Peshawarلمحہ لمحہ
زندگی مر رہی تھی
میں نے دیکھا
انساں کے ہاتھوں جنت جل رہی تھی
لٹے پٹے سے قافلے
بے شمار
جنت سے نکلے
حور و انسان و فرشتے
بے شمار
روتے
بلکتے
سسکتے سارے
جنت سے دور چلے جارہے تھے
اپنی بقا کی خاطر
سارے بہ سوئے دوزخ جارہے تھے
باغ جنت سے دھواں اٹھ رہا تھا
آہ
درختوں سے آگ لپٹی تھی
اور انسان نما چڑیلیں اور دیو
ان کے اردگرد طوافیں کرتے تھے
جو اپنے مردہ بہن بھائیوں کا
سرخ گوشت اس خوشی سے کھاتے تھے
جیسے بھوکے کباب کھاتے ہیں
آب زم زم کے صاف چشموں میں
بہہ رہاتھا لہو معصوموں کا
اور شیطان نما انسان ان میں
نہاتے
گاتے
ہنستے
ناچتے تھے
اور اپنے ہی بھائیوں کا خون
ایسے پیتے تھے
جیسے کہ مے خوار
میکدوں میں شراب پیتے ہیں
یہ وہ انساں تھے
ہاں۔ یہ انساں تھے
جن کی عظمت کو کبھی
فرشتے تک سلام کرتے تھے
آج
ان کو دیکھ کر فرشتے تو کیا
سارے شیطان محو حیرت تھے
کبھی جو شرم کی علامت تھے
جملہ حقوق محفوظ۔
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







