سود و زیاں
Poet: سید مجتبیٰ داودی By: Syed Mujtaba Daoodi, Karachiحسنِ فطرت کا انہیں منظر کہیں یا گلستاں
پھول تو ہوتے ہیں اپنے موسموں کا ترجماں
رات بھر کی شبنم افشانی تو ہے اک واقعہ
صبح کی کرنیں بنا دیتی ہیں اس کو داستاں
پر سکوں انداز میں ہر شے ہے گویا بے رموز
واد لیکن بے زبانی کی نہیں دیتی زباں
حشر کیا ہے رونمائی لمحہِ موجود کی
جو یہاں ہے حشر میں بھی ہے یہی سود و زیاں
یہ گراں کوہِ مسلسل اور یہ اونچے درخت
ہر بلندی کے لئے پستی ہے اک جائے اماں
وقت مشکل کوئی بھی تیرے قریب آیا نہیں
ایک ہی صف میں کھڑے تھے سب مراتب ناتماں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






