سودائی
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiآپ ہی کا دیوانہ ---- آپ ہی کا سودائی
آپ ہی کا عاشق ہے ---- آپ کا تمنائی
شہر ِ دل میں آوارہ ---- پھر رہا ہے سودائی
دوست پوچھنے آئے ---- زک یہ کس نے پہنچائی
کب سے دل گرفتہ ہو --- کیوں ہے آبلہ پائی
ہنس کے چپ رہا لیکن --- آنکھ اُس کی بھر آئی
شہر ِ دل میں آوارہ ---- پھر رہا ہے سودائی
جانے خانۂ دل میں ---- کس کی یاد در آئی
بے طرح طبیعت پر ---- بے کلی سی ہے چھائی
خلق سے کنارہ کش ---- ہے عزیز تنہائی
شہر ِ دل میں آوارہ ---- پھر رہا ہے سودائی
دل لگی نہیں یارو ---- تلخ ہے یہ سچائی
بات اُن کی محفل میں --- جب کبھی نکل آئی
کہہ دیا وہ پاگل ہے ---- کر رہا ہے رسوائی
شہر ِ دل میں آوارہ ---- پھر رہا ہے سودائی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






