سوچ جب ذہن سے نکلےگی بکھر جائےگی
Poet: Khalel Ur Rehman Ibrahimi By: Khalil Ur Rehman Ibrahimi, Islamabadسوچ جب ذہن سے نکلےگی بکھر جائےگی
وقت کی بھول بھلیوں میں اترجائے گی
گرم جوشی، وہ، مَیں..آغازِ تعلق.. یعنی
یہ محبت تو فقط دو دن میں مر جائے گی
ہاتھ سب میرے گریباں تک کو اٹھے تھے
مجھ سےپہلےاسے میری یہ خبرجائے گی
روح میری جو گریزاں ہے بدن سے کب سے
جب ملی جسم سے- چونکے گی ڈر جائے گی
وہ تو ناداں تھی خلیل آخر تم نے کیا کیا یہ
با ت جب نکلے گی ساری مِرے سر جائے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






