سوچ کے گھروندوں میں
Poet: قاضی جرار حسنی By: مقصود حسنی, kasur
علم و فن کے
کالے سویروں سے
مجھے ڈر لگتا ہے
ان کے بطن سے
ہوس کے ناگ جنم لیتے ہیں
سچ کی آواز کو
جو ڈس لیتے ہیں
سہاگنوں کی پیاسی آتما سے
ہوس کی آگ بجھاتے ہیں
صلاحیتوں کے چراغوں کی روشنی کو
دھندلا دیتے ہیں
بجھا دیتے ہیں
حق کے ایوانوں میں
اندھیر مچا دیتے ہیں
حقیقتوں کا ہم زاد
اداس لفظوں کے جنگلوں کا
آس سے
ٹھکانہ پوچھتا ہے
انا اور آس کو
جب یہ ڈستے ہیں
آدمیت کی آرتھی اٹھتی ہے
کم کوسی' بےہمتی بےاعتنائی کے شراپ کے سائے
ابلیس کے قدم لیتے ہیں
شخص کبھی جیتا کبھی مرتا ہے
کھانے کو عذاب ٹکڑے
پینے کو تیزاب بوندیں ملتی ہیں
خود کشی حرام سہی
مگر جینا بھی تو جرم ٹھہرا ہے
ستاروں سے لبریز چھت کا
دور تک اتا پتا نہیں
ہوا ادھر سے گزرتے ڈرتی ہے
بدلتے موسموں کا تصور
شیخ چلی کا خواب ٹھہرا ہے
یہاں اگر کچھ ہے
'...........تو
منہ میں زہر بجھی تلواریں ہیں
پیٹ سوچ کا گھر
ہات بھیک کا کٹورا ہوئے ہیں
بچوں کے کانچ بدن
بھوک سے
کبھی نیلے کبھی پیلے پڑتے ہیں
!اے صبح بصیرت
تو ہی لوٹ آ
کہ ناگوں کے پہرے
کرب زخموں سے
رستا برف لہو
تو نہ دیکھ سکوں گا
سچ کے اجالوں کی حسین تمنا
مجھے مرنے نہ دے گی
اور میں
اس بےوضو تمنا کے سہارے
کچھ تو سوچ سکوں گا
سوچ کے گھروندوں میں
زیست کے سارے موسم بستے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






