سوچا نہ تھا
Poet: S. Asghar Ali Shah Sahil By: S. Asghar Ali Shah Sahil, Karachiزندگی بھی یوں کبھی ٹھکرائے گی سوچا نہ تھا
وہ مجھے مل کر بھی بچھڑ جائے گی سوچا نہ تھا
وقت کا کیا ہے نہیں رہتا کبھی یہ ایک سا
وقت کے سنگ تو بھی بدل جائے گی سوچا نہ تھا
ساتھ جینے مرنے کی کھائیں تھی جو قسمیں سبھی
ایک پل میں ان کو توڑ جائیگی سوچا نہ تھا
وقت رخصت دیکھنا مڑ مڑ کے تیرا یاد ہے
دور جا کے مجھ کو بھول جائے گی سوچا نہ تھا
کٹ رہے تھے روز و شب ساحل بڑے ہی خوشگوار
درد دل مجھ کو وہ یوں دے جائیگی سوچا نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







