سوچا ہے برا ، اچھے خیالات سے پہلے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسوچا ہے برا ، اچھے خیالات سے پہلے
ہر رنگ چرایا ہے شروعات سے پہلے
تجھ کو تو کبھی سحر محبت نہ ملے گی
تو نے کبھی سوچا ہی نہیں ذات سے پہلے
آباد ہوئے میرے بھی کرکٹ کے یہ میداں
دیکھیں گے کمالات ، کمالات سے پہلے
اس وقت نہیں تیری عنایت کی ضرورت
مرنا مجھے بہتر ہو گا خیرات سے پہلے
ڈوبا ہے جو ہر خواب تو اب اس سے گلہ کیا
سیلاب تو آنکھوں میں تھا صدمات سے پہلے
کب سے ہوں میں اس شہر فسوں کار میں حیراں
ہر سو ہی رقابت ہے فسادات سے پہلے
وشمہ بھی ہے صحرائے مسافت میں اکیلی
اور راہ میں کاٹی ہے گھٹا رات سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






