سوچا ہے تمہیں اپنا بنا کر رکھوں. بصمئم قلب لمن لا یمکن حیاة بغيره مثل بشري.
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی., فیصل آبادسوچا ہے تمہیں اپنا بنا کر رکھوں
سیاہ رات کا تمہیں چاند بنا کر رکھوں
تیری نظر ء محبت ہو فقط میرے لئیے
اور میں دنیا سے تمہیں چراء کر رکھوں
دیکھیں تو تجھے لوگ فقط میرا کہیں
میں یوں تمہیں خود میں چھپا کر رکھوں
ہر صبح تیری آمد کا امکان لئیے ہے
ہر شام تیرے خواب سجا کر رکھوں
اے زندگی اتنی بھی تلخ نہ ہو
میں کب تلک تیرے ناز اٹھا کر رکھوں
تیری ذات ہی سرمایہ ہے عنبر میرے لئیے
میں تو مفلس ہوں جو اسے گنواء کر رکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






