سوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگسوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی
لوگ کرتے ہیں کیونکر بھلا خود کشی
بزدلی کا اسے نام یوں ہی نہ دے
حوصلہ ہے تو کر کے دِکھا خود کشی
خار کا درد بھی جس نے جھیلا نہیں
وہ کیا سمجھے گا ہوتی ہے کیا خود کشی
زندگانی کے ہر اک بیابان سے
دے رہی ہے مجھے اب صدا خود کشی
زیست کا بوجھ کیوں میرے ظاہر پہ ہے
میرا باطن ہی جب کر گیا خود کشی
مر رہا ہوں میں سو بار ہر سانس میں
کیا مرے درد کی ہے دوا خود کشی ؟
سب سے پہلا جہاں کا میں خود کش بنوں
کر دے جائز اگر جو خدا خود کشی
ایک ظالم یہاں پھر بری ہو گیا
ایک مظلوم پھر کر گیا خود کشی
آس ہوتی جو عادل سے انصاف کی
کوئی کیوں ایسے کرتا بھلا خود کشی
جب تلک عدل قائم نہ ہو گا یہاں
لوگ کرتے رہیں گے سدا خود کشی
آ گیا خوف بس عاقبت کا مجھے
ورنہ میں کرنے والا ہی تھا خود کشی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






