سوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

سوچتا ہوں کہ ہوتی ہے کیا خود کشی
لوگ کرتے ہیں کیونکر بھلا خود کشی

بزدلی کا اسے نام یوں ہی نہ دے
حوصلہ ہے تو کر کے دِکھا خود کشی

خار کا درد بھی جس نے جھیلا نہیں
وہ کیا سمجھے گا ہوتی ہے کیا خود کشی

زندگانی کے ہر اک بیابان سے
دے رہی ہے مجھے اب صدا خود کشی

زیست کا بوجھ کیوں میرے ظاہر پہ ہے
میرا باطن ہی جب کر گیا خود کشی

مر رہا ہوں میں سو بار ہر سانس میں
کیا مرے درد کی ہے دوا خود کشی ؟

سب سے پہلا جہاں کا میں خود کش بنوں
کر دے جائز اگر جو خدا خود کشی

ایک ظالم یہاں پھر بری ہو گیا
ایک مظلوم پھر کر گیا خود کشی

آس ہوتی جو عادل سے انصاف کی
کوئی کیوں ایسے کرتا بھلا خود کشی

جب تلک عدل قائم نہ ہو گا یہاں
لوگ کرتے رہیں گے سدا خود کشی

آ گیا خوف بس عاقبت کا مجھے
ورنہ میں کرنے والا ہی تھا خود کشی

Rate it:
Views: 360
17 Jul, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL