سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں

Poet: UA By: UA, Lahore

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں

تیری گلیوں میں بہت دھول اڑائی ہم نے
تیرے کوچے کی خاک سر پہ سجائی ہم نے
عین ممکن ہے کوئی ہم کو سر پھرا کہہ دے

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں

وہ بھی دن تھے کہ تیرے روبرو ہم رہتے تھے
وہ بھی دن تھے کہ تجھ سے دل کی بات کہتے تھے
اب یہاں کون ہے کہ جس سے مدعا کہہ دیں

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں

کون ایسا ہے جسے تیری طرح سے چاہیں
کون ایسا ہے جسے کھو کے بھی نہ کھو پائیں
دل کی یہ آرزو ہم تجھ سے بارہا کہہ دیں

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں

کہہ دیا تم سے جو کہنا تھا تم نے سن بھی لیا
ہم نے تیرا کہا تیرے کہے بن سن بھی لیا
اور ہم کیا سنیں ہم اور بھلا کیا کہہ دیں

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں

ساتھ مانگا تھا ہم نے تم سے دو گھڑی کے لئے
تم نے احسان کیا ہم پہ زندگی کے لئے
کیوں نہ اس نعمت عظمٰی پہ اک قطعہ کہہ دیں

سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
 

Rate it:
Views: 1968
06 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL