سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
Poet: UA By: UA, Lahoreسوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
تیری گلیوں میں بہت دھول اڑائی ہم نے
تیرے کوچے کی خاک سر پہ سجائی ہم نے
عین ممکن ہے کوئی ہم کو سر پھرا کہہ دے
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
وہ بھی دن تھے کہ تیرے روبرو ہم رہتے تھے
وہ بھی دن تھے کہ تجھ سے دل کی بات کہتے تھے
اب یہاں کون ہے کہ جس سے مدعا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کون ایسا ہے جسے تیری طرح سے چاہیں
کون ایسا ہے جسے کھو کے بھی نہ کھو پائیں
دل کی یہ آرزو ہم تجھ سے بارہا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کہہ دیا تم سے جو کہنا تھا تم نے سن بھی لیا
ہم نے تیرا کہا تیرے کہے بن سن بھی لیا
اور ہم کیا سنیں ہم اور بھلا کیا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
ساتھ مانگا تھا ہم نے تم سے دو گھڑی کے لئے
تم نے احسان کیا ہم پہ زندگی کے لئے
کیوں نہ اس نعمت عظمٰی پہ اک قطعہ کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






