سویا نہیں ہوں میں

Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

تمام رات رہی چشم تر، سویا نہیں ہوں میں
کیا کہوں کہ رات بھر ، سویا نہیں ہوں میں

کہہ گئی تھی وہ، گھر آﺅں گی آج شام
مضطرب تھا میرا سارا گھر، سویا نہیں ہوں میں

جکڑی گئی نہ ہو کہیں، زمانے کی زنجیروں میں
سو وحشتیں تھیں، سو تھے ڈر، سویا نہیں ہوں میں

وہ تو چاند تھا ، پھر کیسے وہ بے خبر رہا؟
کہکشاں تک تھی خبر، سویا نہیں ہوں میں

تمام عمر سنگ رہنے کا، دعویٰ کرنے والی
پل بھر نہ ہوئی جلوہ گر، سویا نہیں ہوں میں

کل رات تھی وہ حاوی، اغیار کی محفل میں
جانتا تھا سب کچھ مگر، سویا نہیں ہوں میں
 

Rate it:
Views: 973
28 Apr, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL