سَن میری سہیلی!
Poet: UA By: UA, Lahoreسَنومیری ناراض سہیلی
نہ کھیلو ایسے آنکھ مچولی
بن کے رہ جاؤ گی ورنہ
بن بوجھی پہیلی
رہ جاؤ گی اکیلی
سَنومیری ناراض سہیلی
تمہیں کیا لگتا ہےتَم نادان ہو
تو کیا ساری دَنیا نادان ہے
تم خود سے انجان ہو
تو کیا ساری دنیا انجان ہے
اپنے حال پہ رحم کھاؤ
میری بات مان بھی جاؤ
ناحق جھگڑا کرتی ہو
کیوں اپنے آپ سے لڑتی ہو
ایسا کیوں سمجھتی ہو کہ
جو تم نے سمجھا
جو تم نے کہہ دیا
بس وہی سچ ہے
وہ ہی حرف آخر ہے
نہیں۔۔۔پگلی جو تم سوچتی ہو
جو تم کہتی ہو ویسا کچھ بھی نہیں
سوچ سوچ کے ہلکان ہو
کیوں خلق خدا سے بدگمان ہو
تم کیوں پریشان ہو
سَنو میری ناراض سہیلی
قسمت کا قفل کَھل جائے گا
قسمتے میں ہوا تو دیکھو گی
جو چاہتی ہو مل جائے گا
گر مل نہ سکے تو
گلہ نہ کرنا
قسمت کا لکھا مل جائے گا
چاہے تم نے چاہا نہ ہو
لیکن دیکھو غم نہ کرنا
اپنے غم کو یوں کم کرنا
تیرا رب جو سب سے رحیم ہے
سب جانتا ہے وہ کریم ہے
تیری دعا تیری التجا
تو دل سے کرے یا زباں سے کہے
سَنے گا ضرور
کرے گا قبول
(جاری ہے)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






