سُنو تو آج میرے سب نفیس خواب ادھورے رہ گئے

Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujarat

سُنو تو آج میرے سب نفیس خواب ادھورے رہ گئے
میرےجِگر کے ٹُکڑےمَکتب گے تھے مکتب ہی رَہ گئے

کر گئے وہ وطن پہ اپنے جانوں کا نظرانہ پیش یہ فخر کافی ہے
پر میرا آنے والا کَل تھے جو میرا گزراہ ہوا ماضی رہ گئے

کِس کو کہوں اب کس کو پکاروں گھر جلدی آنا میرا بیٹا
میری گود کی زینت تھے بن کر ڈھیرمٹی کا قبرستاں ہی رہ گئے

کافر کی اُولاد پھولوں کو مَسل کر تم کِس جنت کی بات کرتے ہو
گودیں اُجھاڑ کر جنت کی تم کافر تھے اور کافر ہی رہ گئے

کتنی ازیتں جِھیل کر وہ بشارتِ جنت پانے آئے کافر ہو کر مر گئے
ننی سی جانیں تھی ابھی دو قدم چل کر گیے تھےبشارت پا گئے

دُشمن کرتا راہا ظُلم آنکھیں بوچھاڑ کر کے میرے معصوموں پر
خوصلہ میرے شیروں کا وطن کی خاطر ظُلم چُپ چاپ سہہ گئے

اے ا لله دے توفیق ماؤں کو ہماری یہ ازیت بردشت کر سکیں وہ
مان تھے مجسف زندگی کا جو مکتب گے تھے مکتب ہی راہ گئے

Rate it:
Views: 400
03 Feb, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL