سُنو تو آج میرے سب نفیس خواب ادھورے رہ گئے
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratسُنو تو آج میرے سب نفیس خواب ادھورے رہ گئے
میرےجِگر کے ٹُکڑےمَکتب گے تھے مکتب ہی رَہ گئے
کر گئے وہ وطن پہ اپنے جانوں کا نظرانہ پیش یہ فخر کافی ہے
پر میرا آنے والا کَل تھے جو میرا گزراہ ہوا ماضی رہ گئے
کِس کو کہوں اب کس کو پکاروں گھر جلدی آنا میرا بیٹا
میری گود کی زینت تھے بن کر ڈھیرمٹی کا قبرستاں ہی رہ گئے
کافر کی اُولاد پھولوں کو مَسل کر تم کِس جنت کی بات کرتے ہو
گودیں اُجھاڑ کر جنت کی تم کافر تھے اور کافر ہی رہ گئے
کتنی ازیتں جِھیل کر وہ بشارتِ جنت پانے آئے کافر ہو کر مر گئے
ننی سی جانیں تھی ابھی دو قدم چل کر گیے تھےبشارت پا گئے
دُشمن کرتا راہا ظُلم آنکھیں بوچھاڑ کر کے میرے معصوموں پر
خوصلہ میرے شیروں کا وطن کی خاطر ظُلم چُپ چاپ سہہ گئے
اے ا لله دے توفیق ماؤں کو ہماری یہ ازیت بردشت کر سکیں وہ
مان تھے مجسف زندگی کا جو مکتب گے تھے مکتب ہی راہ گئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






