سچ بات ہے قسم سے
Poet: UA By: UA, Lahoreہم جھوٹ نہیں کہتے ۔۔۔۔۔سچ بات ہے قسم سے
خوابوں میں نہیں رہتے۔۔۔۔۔سچ بات ہے قسم سے
ہم خواب دیکھنے ہیں یہ بات حقیقت ہے
دن رات دیکھتے ہیں یہ بات حقیقت ہے
لیکن کبھی خوابوں کو سچا نہیں کر پائے
اپنا مزاج اس لئے اچھا نہیں کر پائے
دل میں جو بات آئے دو ٹوک وہ کہتے ہیں
جو کہنا چاہتے ہیں بے روک وہ کہتے ہیں
اپنے سجائے خواب و خیالات میں رہتے ہیں
دل سے ایجاد کردہ روایات میں رہتے ہیں
حالات و واقعات میں جزبات میں بہتے ہیں
ہم خواب دیکھتے ہیں اور خواب میں رہتے ہیں
دنیا میں رہتے ہوئے دنیا میں نہیں رہتے
دنیا سے پے نیاز ہیں دنیا میں نہیں رہتے
ہم سے یہ کہتے ہیں ہم خود میں نہیں رہتے
کیسے انہیں سمجھائیں ہم جھوٹ نہیں کہتے
خوابوں میں نہیں رہتےسچ بات ہے قسم سے
ہم جھوٹ نہپیں کہتےسچ بات ہے قسم سے
خوابوں میں نہیں رہتے۔۔۔۔۔ سچ بات ہے قسم سے
ہم جھوٹ نہیں کہتے ۔۔۔۔۔سچ بات ہے قسم سے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






