سچ تو یہ ہے کہ مرے سر کی بدولت کی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ جو ہر سمت ترے بزم کی شہرت کی ہے
سچ تو یہ ہے کہ مرے سر کی بدولت کی ہے
ایسے موسم میں وہ چپ چاپ نظر جو آیا
اس نے آنکھو ں سے کوئی شکایت کی ہے
میں نے جو چیز گنوا دی اسے ہیرا کہہ کے
کسی نادار مسافر نےعنایت کی ہے
اس کو لفظوں میں اتاروں تو ورق ہوں روشن
اس کی تصویر بنا لوں تو محبت کی ہے
اے مرے پاؤں کے چھالو مرے ہمراہ رہو
امتحاں سخت ہے ہم نے بھی وکالت کی ہے
میری تاریک شبوں میں ہے اجالا ان سے
چاند سے زخموں پہ مرہم کی رفاقت کی ہے
اس سے جب عہد وفا کر ہی لیا اے وشمہ
بے وفا کہہ کے اسے اشک ندامت کی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






