سچ پوچھ مجھے آج بلاغت کا نشہ ہے
Poet: rehan abbas By: rehan , lahoreبے لوث محبت کہ عقیدت کا نشہ ہے؟
یادوں میں تری آج قیامت کا نشہ ہے
باتیں ہیں کہ آیات صحیفہِ وفا کی
آنکھوں میں تری عین عبادت کا نشہ ہے
آتا ہے مرے جی میں کہ لکھ کر تجھے رکھ لوں
تجھ میں کسی دلچسپ عبارت کا نشہ ہے
معلوم ہی کیا تجھ کو کہ کیا ہے تو ہمارا
اس زیست کی تو آخری چاہت کا نشہ ہے
خاموش رہوں پھر بھی مری سوچ وہ سمجھے
سچ پوچھ مجھے آج بلاغت کا نشہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






