سڑکوں پہ چلاتی ہے ، چپ ہو کر تڑپتی ہے
Poet: Ghulam Abbas Saghar By: isha Manzoor, lahoreسڑکوں پہ چلاتی ہے ، چپ ہو کر تڑپتی ہے
راتوں کو جاگتی ہے ،اجالے سے بھی ڈرتی ہے
یقیں کرے تو آخر کس کا،اکیلی آگ میں جلتی ہے
بولے بھی تو لب سی کہ ،آخر وہ ایک لڑکی ہے
نائبِ خدا یا درندے ، زندگی بہت دشوار ہوئی
کبھی زینب ،کبھی حبیبہ ،آج ایک اور بنت حوا مسمار ہوئی
کیسے وحشی بدن کے قاتل ہیں، ساری فضا غمسار ہوئی
وہ جنکا فرض تھا تحفظ ، نگاہ انکی بھی بدکار ہوی
کتنا ظلم دھاتے ہیں ،چاہتوں کی قبریں بناتے ہیں
بنا کر تنگ قبر یں ،وحشت کا جشن بھی مناتے ہیں
چھپاتے خود کو اندھیروں میں ، روشنی کو یہ مٹاتے ہیں
اشکبار کر کہ آنکھوں کو ، ہمدردی کی تحریکیں چلاتے ہیں
عورت کے قصے سنو تم،درد انکا دکھ دل میں بسا لو
چلنے دو انصاف کی ہوا، خوابوں کو اب حقیقت بنا لو
روح کی چادریں پھٹ چکی ،پردے ایمان کے تم سجا لو
کتنا درد چھپا ہے چہروں پر ،باطل کو اب تو مٹا لو
عورت زینت گھر کی،کبھی ماں ،بہن اور کبھی بیٹی ہے
کوئی تو صدا سنے ،ہر منصف کو یہ صدا دیتی ہے
جب کوئی نہ امیدِعدل ،تب گردن سولی چڑھا لیتی ہے
جنت ہے پاؤ تلے، جسے سمجھ بیٹھے تم کہ اپنی ہی کھیتی ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






