سکوتِ تنہائی میں تنہائی صدا دیتی ہے

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

سکوتِ تنہائی میں تنہائی صدا دیتی ہے
خودفراموشی بھی کیا راہ دکھا دیتی ہے

ہر چیز سے وابستہ ہے یاد تیری
ہر چیز مجھے اکثر رولا دیتی ہے

کسی آسیب کی طرح محبت بھی
شہر کے شہر مٹا دیتی ہے

اہل ء ذوق کے لئیے لازم ہے ظرف بھی
انتہاۓ شوق رسوائی بھی سجا دیتی ہے

مخلص جذبوں سے جو ہوں سرگرداں
ان کو منزل بھی دعا دیتی ہے

سلگا کر تیری یاد بھی اکثر
مجھے مجھ میں ہی جلا دیتی ہے

تخیل و خیالات میں بس کے میرے
تیری خواہش مجھے تیرا بنا دیتی ہے

میرے درد کو مجھ میں ہی دبا کر
میری مسکان کئی راز چھپا دیتی ہے

کچھ لوگ ہوتے ہیں نثر کی مانند
خاموشی ان کی بھی ہر بات بتا دیتی ہے

محبت میں وفاؤں کی انمول کشش
اناء کی ہر دیوار گرا دیتی ہے

مسافتِ عمر کی ہر تلاش میری
مجھے تیرا ہی پتا دیتی ہے

اک دلِ اداس، اک یاد تیری
میری وحشت کچھ اور بڑھا دیتی ہے

جلا دیتی ہے محبت کے چراغوں کو عنبر
وفا اپنے تقاضے کیا خوب نبھا دیتی ہے

Rate it:
Views: 857
26 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL