سکوں کی تلاش میں
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadیوں تو خیال کدھر کدھر نہیں جاتا
مگر اس سے بچھڑنے کا ڈر نہیں جاتا
کیا کوئی حادثہ پڑا ہے دہلیز پر
اے دل تُو کیوں گھر نہیں جاتا
اس کو اپنی اوقات کا اندازہ ہے
پاس سورج کے اس لئے ابر نہیں جاتا
گوہر کہاں ملتے ہیں ساحل کی ریت پر
کچھ پانا ہے تو کیوں تہہ آب اتر نہیں جاتا
لوگوں کی باتوں کا افسوس مت کرو
کسی کے کہنے سے کوئی مر نہیں جاتا
دل اناء پرست کو فقیر کہنے والوں
یہ مانگتا ضرور ہے مگر در در نہیں جاتا
چلو عثمان آج سکوں کی تلاش میں
وہاں چلیں جہاں کوئی بشر نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







