سیلاب
Poet: شمامہ حق By: شمامہ حق, Karorpakkaمیں درخت کی ٹھنڈی چھایا تلے کھڑی
دریا کے کنارے کشتی کا انتظار کر رہی ہوں
چند لمحے بعد
میں خود کو کشتی پر سوار دیکھتی ہوں
میری نظریں دریا کی لہروں پر ہیں
جو سبک خرامی سے بہتی چلی جا رہی ہیں
میں پانی کو دیکھتے ہوئے سوچتی ہوں
کیا یہ واقعی اتنا پرسکون ہے؟
کیا یہ اپنی حدود پہچانتا ہے؟
میرے دل سے ایک آہ نفی کی صورت نکلتی ہے
اور ذہن کے پردے پر
وہ منظر ظاہر ہوتا ہے
جو
میرےعزیز ہم وطنوں کی تباہی کا ہے
یہ پانی جو یہاں دھیمی رفتار سے بہہ رہا ہے
ریلا بن کر انہیں بے بس کر آیا ہے
اور
وہ
کسمپرسی کی حالت میں
اپنے گھروں کو ملبہ بنتے دیکھ رہے ہیں
بڑی بڑی عمارتیں
صرف اس پانی کی وجہ سے منہدم ہوگئی ہیں
کیا یہ واقعی اتنا طاقتور ہے؟
میں جب یہ سوچتی ہوں
تو مجھے دریا وحشت زدہ لگتا ہے
میں اپنی نظریں وہاں سے ہٹا لیتی ہوں
اور پھر
میری ذہنی رو دوبارہ بھٹک جاتی ہے
مجھے ان علاقوں ان بستیوں کا خیال آتا ہے
جن میں ہم سیر کو جایا کرتے تھے
جن کی خوبصورتی ہمیں اسیر کر لیتی تھی
آج جب وہ تباہ ہو گئی ہیں
تو ہم وہاں کا رخ کرتے گھبرا رہے ہیں
ہم ان ننھے میزبانوں کا بھی نہیں سوچتے
جو بھاگ بھاگ کر ہماری طرف آتے تھے
اور ہماری گاڑی کا ٹائر منٹوں میں ٹھیک کرتے تھے
ہمیں راستہ بتاتے تھے کہ
ہمارے گوگل میپ وہاں ساتھ نہیں نبھا سکے
آج وہ ننھے ستارے
مدد کے لیے
انہی راستوں کو تکتے ہیں
کوئی تو آۓ
اور انہیں اپنے ساتھ لے جاۓ
وہاں جہاں زندگی زندہ ہو
میری کشتی کنارے لگتی ہے
اور میں الوداعی نظروں سے پانی کو دیکھتی ہوں
پانی
جو شفاف ہو تو زندگی ہے
اور گدلا ہو تو موت
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






