شائد

Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtata,RSA

شائد کہ زندگی کا قرینہ بدل سکھے
شائد وہ میرے ہوکے رہیں مجھ سے دور دور
شائد محبتوں کا نظریہ بدل سکھے
شائد وہ غیر ہوکے رہیں میرے آس پاس
شائد کہ رشتے ناتوں کا مطلب بدل سکھے
اپنا ہی خون لگنے لگے اپنا خون ہی
شائد کہ پھر خدائی سے ناراض ہو خدا
یا برق یوں ہی بپھری ہوئی ہو مگر ذرا
ممکن ہے تیز چلنے لگی ہو یونہی ہوا
ممکن ہے اس کو بھی تری آمد کا ہو پتا
ممکن ہے پھول یونہی کھل اٹھیں ہوں بے وجھ
یا مٹی کی بجھی ہو میرے آنسوؤں سے پیاس
شائد کہ پھر دھڑکنے لگا ہو کسی کا دل
شاید کہ پھر بہار میں مرجھا گئے ہوں پھول
سینے پہ رکھ سر مرے سرگوشیاں کرو
دنیا جو سامنے ہو تو دنیا سے لڑمرو

Rate it:
Views: 679
10 Jul, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL