شائد
Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtata,RSAشائد کہ زندگی کا قرینہ بدل سکھے
شائد وہ میرے ہوکے رہیں مجھ سے دور دور
شائد محبتوں کا نظریہ بدل سکھے
شائد وہ غیر ہوکے رہیں میرے آس پاس
شائد کہ رشتے ناتوں کا مطلب بدل سکھے
اپنا ہی خون لگنے لگے اپنا خون ہی
شائد کہ پھر خدائی سے ناراض ہو خدا
یا برق یوں ہی بپھری ہوئی ہو مگر ذرا
ممکن ہے تیز چلنے لگی ہو یونہی ہوا
ممکن ہے اس کو بھی تری آمد کا ہو پتا
ممکن ہے پھول یونہی کھل اٹھیں ہوں بے وجھ
یا مٹی کی بجھی ہو میرے آنسوؤں سے پیاس
شائد کہ پھر دھڑکنے لگا ہو کسی کا دل
شاید کہ پھر بہار میں مرجھا گئے ہوں پھول
سینے پہ رکھ سر مرے سرگوشیاں کرو
دنیا جو سامنے ہو تو دنیا سے لڑمرو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






