شاد رہو
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMاسے کہنا کبھی میرے دل کی سونی محفل میں چلا آئے
پنی محبت بھری نظموں سےاسےجگمگا جائے
مجھے ایک بار اپنی مدھر آواز سنا جائے
موسم سرما میں غزل سنا کر ماحول کو گرما جائے
اسے کہنا جب میرے دل کی بزم کا اہتمام ہوتا ہے
پھر میرا ہر پل اس کے نام ہوتا ہے
سب سے پہلے اسے سلام ہوتا ہے
پھر اس کے نام میرا ہر پیغام ہوتا ہے
اسے کہنا تیرے بن میرے دل کی محفل ادھوری ہے
تیری مجھ سے کیوں اتنی دوری ہے
ہم سے کوئی خطا ہو گئی یا تیری کوئی مجبوری ہے
مجھے تیری یاد ستاتی ہے محفل میں اداسی چھائی رہتی ہے
اسے کہنا یہ بزم تیرا اپنا گھر ہے تجھے نہ کسی کا ڈر ہے
میں ہر پل تجھے یاد کرتا ہوں عافیت کی دعا کرتا ہوں
اے دوست جہاں رہو شاد رہو کراچی یا اسلام آباد رہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







