شام کو صبح کے اخبار بَدل جاتے ہیں۔۔۔
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiحُسنِ یوسُف ہو تو معیار بَدل جاتے ہیں
بِکنے والوں میں خریدار بَدل جاتے ہیں
ناشناسی کی عجب رِیت نئی نکلی ہے
موسموں کی طرح اب یار بَدل جاتے ہیں
ایک وہ ہیں جو ہمیشہ ہی رہے ہیں مُخلص
ایک ہم ہیں کہ جو بیکار بَدل جاتے ہیں
خُود فریبی کے لئے ہم نے گھڑے ہیں قصّے
ورنہ دولت سے تو کِردار بَدل جاتے ہیں
عید کا دِن ہے تو مِلنا ہے ضروری اُن سے
جن کے دیکھے سے سب اُفکار بَدل جاتے ہیں
سوچتے ہیں کہ ذرا فرق رہے اپنے بیچ
دیکھ کر یار کو ہر بار بَدل جاتے ہیں
عشق رُسوا نہ ہو، بَن جائیں اگر ہم مَجنوں
شوقِ پِندار میں آثار بَدل جاتے ہیں
لوگ کہتے ہیں حکومت کا بھروسہ کیا ہے؟
کارِ سرکار سے سرکار بَدل جاتے ہیں
پھُول لگتے ہیں، درِ یار کے پتھر ہم کو
اُس کے دیکھے سے سب آزار بَدل جاتے ہیں
ہے بجا اَشک بہانا بھی، شکایت اُس کی
قہقہوں سے ہم غمِ یار بَدل جاتے ہیں
اس قدر جلد بَدل جاتا ہے سچ تک، سرور
شام کو صبح کے اخبار بَدل جاتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






