شام کو یادوں کے آنگن میں اتر جاتا ھوں
Poet: MZ By: MZ, karachiشام کو یادوں کے آنگن میں اتر جاتا ھوں
اور اس بزم سے پھر وقت سحر جاتا ھوں
مجھ کو مقصود ھے ھر حال میں راحت تیری
بوجھ ھوں گر تو تیرے دل سے اتر جاتا ھوں
میں تو قائم ھوں فقط تیری کشش کے باعث
تیری سرحد سے جو نکلوں تو بکھر جاتا ھوں
گنبد زات سے جو صدا آتی ھے
شب کی تنھائی میں سنتا ھوں تو ڈر جاتا ھوں
میں تو قائم ھوں ابھی عہد وفا پر اپنے
گر تجھے راس نہیں ھے تو مکر جاتا ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






