شام کی ایک خونیں شام
Poet: Abu Lina By: Abu Lina, Dohaجمہور کے علمبردار
منافق ہیں یہ پہرے دار
حقوق پہ منافع بخش
خوب ہیں یہ کاروبار
روسی بم یاں گرتے ہیں
امریکی گولے پھٹتے ہیں
لبنانی، شیشانی، افغانی
ایرانی بھی یہاں ملتے ہیں
اس لاوارث سی بستی میں
سب ہی تو آکر لڑتے ہیں
سعودی بھی مجرم ہیں اس میں
ایرانی ہاتھ بھی رنگے ہیں
اس خونی وحشی مقتل میں
سب ہی مسلماں ننگے ہیں
ظلم اور بربریت نے
ایک یہ اچھا کام کیا
لبادہ پوش درندوں کا
نقاب چھین نوچ لیا
داعش کا قبضہ ختم ہوا
القاعدہ کا راج بھی
حزب اللہ کی کامیابی
نُجَبٰا کی جیت بھی
ملیامیٹ محلّوں میں لیکن
صرف جھنڈے اب لہراتے ہیں
نسلیں ہیں عرب
تعداد میں ارب
بچوں کے لاشے گرتے ہیں
ہم تماشا دیکھا کرتے ہیں
ان خشک پلکوں کے نیچے
کبھی آنسو تیرا کرتے تھے
کیا پتھر نماقلب بھی کہیں
مٹھی مسوس ہواکرتے ہیں
آزادی کے نعروں سے
جو گلیاں گونجا کرتی تھیں
اس فضا میں اب بارود کی بو
اور انسانی اعضاء ملتے ہیں
اپنی ماں جیسی ہستی
ننگے سر بھاگتے دیکھی ہے
ہر روز میرے ہی بچے
ٹکڑوں میں بکھرے ملتے ہیں
بہتا لہو گہرے زخم
ان ننھے منے جسموں پر
ان لت پت کھلی آنکھوں سے
جب نظر یں تم پر پڑتی ہیں
کیا نیند اچاٹ ہوتی ہے
کیا آنکھ کبھی کھل جاتی ہے
جب معصوموں کی روحیں اب
لحد میں اترا کرتی ہیں
ہمارے ضمیر بانہوں میں بھینچے
دفن ہوجایا کرتی ہیں
جب روز محشر یہ بے چارے
مسکراتے ہوئے جو اٹھیں گے
جلدی وہ گڑھا ڈھونڈو تو سہی
جس میں ہم سب تماشائی منہ چھپانےاتریں گے
مظلوموں کی آہیں سسکیاں
عرش ہلایا کرتی ہیں
مائیں بہنیں بیٹیاں
مردوں کی راہیں تکتی ہیں
اقبالی شاہینوں کے لاشے
کرگز نوچا کرتے ہیں
ستارے چھونے والی کمندیں
پھندوں کی صورت ملتی ہیں
کہتا ہے فیض ان مظلوموں کے پاؤں تلے
دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
پر ایسا تب ہے ممکن جب
ان ناداروں کے پہلو میں
ہم بھی قدم ملائیں گے
ہماری چاپ بھی کڑکے گی
یہ معصوم فرشتے صرف
درد و الم کے مارے ہیں
کن فیکون ارسال کر
اور ان کی مشکل آسان کر
الہیٰ تیری رحمت سے
بڑھ کر اور کچھ بھی تو نہیں
ہم معاصیوں کو معاف کر
اور ان کی مشکل آسان کر
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔







